ابنِ صفیاردو نظمشعر و شاعری

کسی کی صدا

ابن صفی کی ایک اردو نظم

رات کے پر کیف سناٹے میں بنسی کی صدا
چاندنی کے سیم گوں شانے پہ لہراتی ہوئی

گونجتی بڑھتی لرزتی کوہساروں کے قریب
پھیلتی میداں میں پگڈنڈی پہ بل کھاتی ہوئی

آ رہی ہے اس طرح جیسے کسی کی یاد آئے
نیند میں ڈوبی ہوئی پلکوں کو اکساتی ہوئی

آسمانوں میں زمیں کا گیت لہرانے لگا
چھا گیا ہے چاند کے چہرے پہ خفت کا غبار

بزم انجم کی ہر ایک تنویر دھندلی ہو گئی
رکھ دیا ناہید نے جھنجھلا کے ہاتھوں سے ستار

ذرہ ذرہ جھوم کر لینے لگا انگڑائیاں
کہکشاں تکنے لگی حیرت سے سوئے جوئبار

یوں فضاؤں میں رواں ہے یہ صدائے دلنشیں
ذہن شاعر میں ہو جیسے اک اچھوتا سا خیال

یا سحر کے سیم گوں رخسار پر پہلی کرن
سرخ ہونٹوں سے بچھائے جس طرح بوسوں کے جال

گاہ تھمتی گاہ سناٹے کا سینہ چیرتی
یوں فضا میں اٹھ کے ہو جاتی ہے مدھم ہائے ہائے

شام کی دھندلاہوہٹوں میں دور کوئی کارواں
کوہساروں سے اتر کر جیسے میدانوں میں آئے

ابنِ صفی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button