- Advertisement -

راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے

عدیم ہاشمی کی اردو غزل

راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے
اس نے پوچھا تو ہے اتنا، ترا حال اچھا ہے

ماہ اچھا ہے بہت ہی نہ یہ سال اچھا ہے
پھر بھی ہر ایک سے کہتا ہوں کہ حال اچھا ہے

ترے آنےسے کوئ ہوش رہے یا نہ رہے
اب تلک تو ترے بیمار کا حال اچھا ہے

یہ بھی ممکن ہے تری بات ہی بن جاۓ کوئ
اسے دے دے کوئ اچھی سی مثال اچھا ہے

دائیں رخسار پہ آتش کی چمک وجہ جمال
بائیں رخسار کی آغوش میں خال اچھا ہے

سخت غصہ میں بھی یہ سوچ کے ہنس دیتا ہوں
یہ وہی شخص ہے جو وقت وصال اچھا ہے

آو پھر دل کے سمندر کی طرف لو ٹ چلیں
وہی پانی ، وہی مچھلی ، وہی جال اچھا ہے

چھوڑیۓ اتنی دلیلوں کی ضرورت کیا ہے
ہم ہی گاہک ہیں برے آپ کا مال اچھا ہے

کوئ دینار نہ درہم نہ ریال اچھا ہے
جو ضرورت میں ہو موجود وہ مال اچھا ہے

کیوں پرکھتے ہو سوالوں سے جوابوں کو عدیم
ہونٹ اچھے ہوں تو سمجھو کہ سوال اچھا ہے

عدیم ہاشمی 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
عدیم ہاشمی کی اردو غزل