مری شکل و صورت سے مت جان مجھ کو
مرے شعر سے صرف پہچان مجھ کو
کسی اور سے عشق کرنے لگا ہے
تو کس حق سے کہتا ہے تو جان مجھ کو
کبھی مجھ پہ بھی نظم کوئی لکھی ہے
لکھی تو بتا اس کا عنوان مجھ کو
تجھے پھر کسی سے محبت ہوئی ہے
تری باتیں کرتی ہیں حیران مجھ کو
نہ کر اپنے محبوب کا ذکر مجھ سے
نہ کر اس طرح سے پریشان مجھ کو
تری میٹھی باتیں ذرا سی توجہ
نہیں چاہیے تیرا احسان مجھ کو
تجھے میں نے اس کی جگہ رکھ دیا ہے
معافی نہیں دے گا بھگوان مجھ کو
فقط اپنی تکلیف دکھتی ہے تجھ کو
کبھی تو سمجھتا ہے انسان مجھ کو
محبت میں اب تک مری تو نہیں ہوں
مگر اب تو زندہ بھی مت مان مجھ کو
سپنا مولچندانی








