آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتاعجاز عزائی

راتیں سمیٹ لوں گا سحر چھوڑ جاوْں گا

ایک اردو غزل از اعجاز عزائی

راتیں سمیٹ لوں گا سحر چھوڑ جاوْں گا
روشن چراغ سارے ادھر چھوڑ جاوْں گا

اڑتے ہوےْ شکار اگر ہو گیا تو میں
اپنے کھلی فضاوْں میں پر چھوڑ جاوْں گا

تعمیر کر سکانہ پرانے مکان کو
آنگن میں سایہ دار شجر چھوڑجاوْں گا

اپنوں کا یہ رویہ رہا تو حیات کا
آدھا کروں گا آدھا سفر چھوڑجاوْں گا

خاموش ہو گیا میں کسی مصلحت کے تحت
ذہنوں پہ گفتگو کا اثر چھوڑ جاوْں گا

پیچھے ہر آنے والے مسافر کے واسطے
ہموار کر کے راہ گزر چھوڑ جاوْں گا

شاید کہ کام آئیں کڑے وقت میں ترے
جاتے ہوئے یہ لعل و گہر چھوڑ جاوْں گا

اک روز میں عزائی سکوں کی تلاش میں
آخر یہ گردشوں کا نگر چھوڑ جاوْں گا

 اعجاز عزائی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button