اردو غزلیاتشعر و شاعریگلزار

ذکر ہوتا ہے جہاں بھی

گلزار کی ایک اردو غزل

ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کا

صدر دروازہ سا کھلتا ہے کتب خانے کا

اب دھوئیں کی طرح تحلیل ہوا جاتا ہے

دِل سے اِک خوف سا گزرا ہے بچھڑ جانے کا

جی کے بہلانے کو آ جاتے ہیں کچھ لوگ یہاں

کتنا آباد ہے گوشہ مرے ویرانے کا

بلبلہ پھر سے چلا پانی میں غوطے کھانے

نہ سمجھنے کا اُسے وقت نہ سمجھانے کا

مَیں نے الفاظ تو بیجوں کی طرح چھانٹ دیئے

ایسا میٹھا ترا انداز تھا فرمانے کا

کس کو روکے کوئی رستے میں کہاں بات کرے

نہ تو آنے کی خبر ہے ، نہ پتہ جانے کا

 

گلزار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button