آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفرحانہ عنبر

لگ رہی ہے کچھ گلابی شام سی

فرحانہ عنبر کی ایک اردو غزل

لگ رہی ہے کچھ گلابی شام سی
دل میں اک حسرت ہے جو بے نام سی

خاص تو تیری محبت نے کیا
میں تو اک لڑکی تھی ویسے عام سی

روح تک سیراب مجھ کو کر گئ
ہاے وہ تیری نظر اک جام سی

گونگے بہروں کے نگر میں آج بھی
لوٹ آتی ہے صدا ناکام سی

واقعی تم بے وفا ہو فطرتاً
بات یہ بالکل نہیں الزام سی

اس محبت نے مجھے کندن کیا
میں وگرنہ رہ گئ تھی خام سی

یہ مری عزت سخن کی دین ہے
ہو گئ مشہور میں گمنام سی

سوچ کر عنبر قدم رکھنا یہاں
یہ محبت ہے گلی بدنام سی

فرحانہ عنبر

post bar salamurdu

فرحانہ عنبر

نام۔۔فرحانہ عنبر شہر۔۔۔گوجرانوالہ شاعری وراثت میں ملی میرے دادا نصیر احمد ناصر بہت اچھے شاعر تھے۔ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق ہے ۔ اردو اور پنجابی ہر دو زبانوں میں کہتی ہوں اور اپنا کلام ترنم میں بھی پیش کرتی ہوں۔ بچپن سے نعت ،حمڈ،منقبت ،غزل گانا سب میں رول پلے کرتی رہی ہوں اور بے شمار انعامات حاصل کر چکی ہوں۔ آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن سے شان پاکستان ایورڈ اور بہت سے دوسرے ایوارڈ حاصل کیے۔ تین انتخاب آ چکے ہیں حسن انتخاب دشت دروں سانجھیاں سوچاں ایک شعری مجموعہ ۔۔چلے آو نا۔۔۔پچھلے سال منظر عام پر آیا ۔ دوسرا شعری مجموعہ۔۔۔میری آنکھیں نہیں ستارے ہیں۔۔۔پروف ریڈنگ کے مرحلے میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button