لگ رہی ہے کچھ گلابی شام سی
دل میں اک حسرت ہے جو بے نام سی
خاص تو تیری محبت نے کیا
میں تو اک لڑکی تھی ویسے عام سی
روح تک سیراب مجھ کو کر گئ
ہاے وہ تیری نظر اک جام سی
گونگے بہروں کے نگر میں آج بھی
لوٹ آتی ہے صدا ناکام سی
واقعی تم بے وفا ہو فطرتاً
بات یہ بالکل نہیں الزام سی
اس محبت نے مجھے کندن کیا
میں وگرنہ رہ گئ تھی خام سی
یہ مری عزت سخن کی دین ہے
ہو گئ مشہور میں گمنام سی
سوچ کر عنبر قدم رکھنا یہاں
یہ محبت ہے گلی بدنام سی
فرحانہ عنبر








