اردو غزلیاتانور مسعودشعر و شاعری

مری آبائی تلواروں کے دستے بیچ ڈالے ہیں

اردو غزل از انور مسعود

مری آبائی تلواروں کے دستے بیچ ڈالے ہیں

بہت مہنگے تھے یہ ہیرے جو سستے بیچ ڈالے ہیں

وہ جن پہ چل کے منزل پر پہنچنا تھا غریبوں کو

امیرِ شہر نے وہ سارے رستے بیچ ڈالے ہیں

مرے دریاؤں کا پانی اٹھا ڈالا ہے ٹھیکے پر

وہ بادل تھے جو کھیتوں پر برستے بیچ ڈالے ہیں

بھرے گھر کے لئے مشکل تھی فاقوں کی خریداری

بالآخر باپ نے بچوں کے بستے بیچ ڈالے ہیں

انور مسعود

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button