- Advertisement -

اپنی الگ ہی سمت میں راہیں نکال کر

ایک اردو غزل از شبیرنازش

اپنی الگ ہی سمت میں راہیں نکال کر
وہ لے گیا ہے جسم سے سانسیں نکال کر

لوٹے تو یہ نہ سوچے کہ خط جھوٹ موٹ تھے
میں رکھ چلا ہوں بام پر آنکھیں نکال کر

میرے کفن کے بند نہ باندھو! ابھی مجھے
ملنا ہے ایک شخص سے بانہیں نکال کر

کیا ظرف ہے درخت کا، حیرت کی بات ہے
ملتا ہے پھر خزاں سے جو شاخیں نکال کر

تو ہی بتا! کہ آنکھ کے شمشان گھاٹ میں
کیسے بسالوں میں تجھے لاشیں نکال کر

ہر شخص اپنے قد کے برابر دکھائی دے
سوچیں جو درمیان سے ذاتیں نکال کر

چاہو تو کر لو شوق سے تم بھی حسابِ وصل
اک پل بچے گا ہجر کی راتیں نکال کر

شبیرنازش

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از شبیرنازش