آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفوزیہ شیخ

پگڑیاں بیچ کے انسان کماتا کیا ہے

فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل

پگڑیاں بیچ کے انسان کماتا کیا ہے
سب کو معلوم ہے اوقات دکھاتا کیا ہے

جس نے تنہائی کی بانہوں میں گزاری ہو حیات
تو اسے چھوڑ کے جانے سے ڈراتا کیا ہے

بوجھ رکھا یا کہیں کوئی سہارا مانگا ؟
ساتھ چلنے سے مرے ، آپکا جاتا کیا ہے ؟

میری جیبوں میں محبت کے ہیں سکے لیکن
آج کے دور میں ان سکوں سے آتا کیا ہے

باتوں باتوں میں وہ اک بات کیا کرتا تھا
میں بڑی دیر سے سمجھی کہ سناتا کیا ہے۔

اس کو سو بار بچھڑ کر بھی پکارا دل نے
اس سے معلوم نہیں روح کا ناتا کیا ہے

فوزیہ شیخ

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button