اردو غزلیاتساغر صدیقیشعر و شاعری

صراحی جام سے ٹکرائیے ، برسات کے دن ہیں

ایک اردو غزل از ساغر صدیقی

صراحی جام سے ٹکرائیے ، برسات کے دن ہیں

حدیثِ زندگی دہرائیے، برسات کے دن ہیں

سفینہ لے چلا ہے کس مخالف سمت کو ظالم

ذرا ملّاح کو سمجھائیے، برسات کے دن ہیں

کسی پُر نور تہمت کی ضرورت ہے گھٹاؤں کو

کہیں سے مہ وشوں کو لائیے، برسات کے دن ہیں

طبیعت گردشِ دوراں کی گھبرائی ہوئی سی ہے

پریشاں زلف کو سلجھائیے، برسات کے دن ہیں

بہاریں ان دنوں دشتِ بیاباں میں آتی ہیں

فقیروں پر کرم فرمائیے، برسات کے دن ہیں

یہ موسم شورشِ جذبات کا مخصوص موسم ہے

دل ناداں کو بہلائیے، برسات کے دن ہیں

سہانے آنچلوں کے ساز پر اشعار ساغر کے

کسی بے چین دھن میں گائیے، برسات کے دن ہیں

ساغر صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button