- Advertisement -

Howa Na Zore Sy

ہوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک
اگرچہ مغربیوں کا جنوں بھی تھا چالاک

مے یقیں سے ضمیر حیات ہے پرسوز
نصیب مدرسہ یا رب یہ آب آتش ناک

عروج آدم خاکی کے منتظر ہیں تمام
یہ کہکشاں یہ ستارے یہ نیلگوں افلاک

یہی زمانۂ حاضر کی کائنات ہے کیا
دماغ روشن و دل تیرہ و نگہ بیباک

تو بے بصر ہو تو یہ مانع نگاہ بھی ہے
وگرنہ آگ ہے مومن جہاں خس و خاشاک

زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعل راہ
کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحب ادراک

جہاں تمام ہے میراث مرد مومن کی
مرے کلام پہ حجت ہے نکتۂ لولاک

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
A Urdu Poetry By Jaun Elia