- Advertisement -

جو شخص تیرے غم میں بظاہر اداس ہے

ایک اردو غزل از طلعت سروہا

جو شخص تیرے غم میں بظاہر اداس ہے

وہ واقبِ سکوں ہے مسرت شناس ہے

اے مائلِ بہار کہی یہ نہ بھولنا

ہر گلشنِ آمید کا انجام یاس ھے

اٹھتی نہی ہے جانِب اربابِ اقتدار

شاید میری نگاہ زمانہ شناس ہے

دامن پہ اشکِ غم ہیں گریباں لہو سے تر

اے صبحِ نو گلوں کا یہ کیسا لباس ہے

شاید اسی کا نام ہیں مجبوری حیات

ٹوٹی ہوئی ہے آس مگر پہر بھی آس ہے

ٹکرا کے جس سے کتنے ہی طوفان پلٹ گئے

اے طلعت میری روح میں اک ایسی پیاس ہیں

طلعت سروہا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از طلعت سروہا