آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریطلعت سروہا

جو شخص تیرے غم میں بظاہر اداس ہے

ایک اردو غزل از طلعت سروہا

جو شخص تیرے غم میں بظاہر اداس ہے

وہ واقبِ سکوں ہے مسرت شناس ہے

اے مائلِ بہار کہی یہ نہ بھولنا

ہر گلشنِ آمید کا انجام یاس ھے

اٹھتی نہی ہے جانِب اربابِ اقتدار

شاید میری نگاہ زمانہ شناس ہے

دامن پہ اشکِ غم ہیں گریباں لہو سے تر

اے صبحِ نو گلوں کا یہ کیسا لباس ہے

شاید اسی کا نام ہیں مجبوری حیات

ٹوٹی ہوئی ہے آس مگر پہر بھی آس ہے

ٹکرا کے جس سے کتنے ہی طوفان پلٹ گئے

اے طلعت میری روح میں اک ایسی پیاس ہیں

طلعت سروہا

طلعت سروہا

نام ۔ طلعت جہاں سروہا قلمی نام۔ طلعت سروہا افسانہ نگار، شاعرہ پیدائش۔ سہارنپور(یو پی ) تعلیم ۔ MA پہلی غزل خاتون مشرق میں شائع ہوئی تھی اور بشتر اخبارات میں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں ۔ شاعری مجموعہ بہت جلد منظر عام پر آئے گا۔ زبان۔ اردو، ہندی، انگریزی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button