اردو غزلیاتاطہر نفیسشعر و شاعری

سوچتے اور جاگتے سانسوں کا

اطہر نفیس کی اردو غزل

سوچتے اور جاگتے سانسوں کا اک دریا ہوں میں
اپنے گم گشتہ کناروں کے لیے بہتا ہوں میں

بیش قیمت ہوں مری قیمت لگا سکتا ہے کون
تیرے کوچے میں بکوں تو پھر بہت سستا ہوں میں

خواب جو دیکھے تھے میں نے وہ بھی اب دھندلا گئے
اب تو تم آ جاؤ صاحب اب بہت تنہا ہوں میں

جل گیا سارا بدن ان موسموں کی آگ میں
ایک موسم روح ہے جس میں کہ اب زندہ ہوں میں

میرے ہونٹوں کا تبسم دے گیا دھوکا تجھے
تو نے مجھ کو باغ جانا دیکھ لے صحرا ہوں میں

میں تو یارو آپ اپنی جان کا دشمن ہوا
زہر بن کے آپ اپنی روح میں اترا ہوں میں

دیکھنے میری پذیرائی کو اب آتا ہے کون
لمحہ بھر کو وقت کی دہلیز پر آیا ہوں میں

تو نے بے دیکھے گزر کر مجھ کو پتھر کر دیا
تو پلٹ کر دیکھ لے تو آج بھی ہیرا ہوں میں

لفظ گونگے ہیں انہیں گویائی دینے کے لیے
زندگی کے سچے لمحوں میں غزل کہتا ہوں میں

اطہر نفیس

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button