- Advertisement -

فصیل جاں کے قیدی ہیں مگر یہ دھیان رکھا ہے

مقصود وفا کی ایک اردو غزل

فصیل جاں کے قیدی ہیں مگر یہ دھیان رکھا ہے
ہوا کے واسطے ہم نے در امکان رکھا ہے

سجا سکتے تھے یادوں کے کئی چہرے کئی پیکر

مگر کچھ سوچ کر ہم نے یہ گھر ویران رکھا ہے

ہمیں شوق اذیت ہے وگرنہ اس زمانے میں

تری یادیں بھلانے کو بہت سامان رکھا ہے

تری جھولی میں لا ڈالیں گے قرضے اس محبت کے

کہ ہم شوریدہ سر ہیں کب کوئی احسان رکھا ہے

شب ہجراں میں در آتی ہیں کیسے یہ ملاقاتیں

تماشا ہائے خلوت نے ہمیں حیران رکھا ہے

تمہیں یہ ماننا ہوگا کہ ہم نے اپنے لب سی کر

سکوت شب کی مٹھی میں کوئی طوفان رکھا ہے

جو ہو یارو بہ ہر صورت چراغوں کو جلانا ہے

ہوائیں کتنی برہم ہیں یہ ہم نے جان رکھا ہے

 

مقصود وفا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
سیّد محمد زاہد کا ایک اردو افسانہ