- Advertisement -

کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گی

دانش نقوی کی ایک اردو غزل

کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گی
ضرور تجھ کو کسی کی کمی ہوا کرے گی

رہے گی ایسے ہی رونق تیرے محلے کی
گزرنے والے نہ ہوں گے گلی ہوا کرے گی

جو ہم نہ ہونگے تو پھر کون تم سے مانگے گا
تمہیں ہماری ضرورت سخی! ہوا کرے گی

بچھڑ کے مجھ سے میری جان خوش رہا کرنا
تو خوش رہا تو مجھے بھی خوشی ہوا کرے گی

ہمارا خاص تعلق تو خیر تھا ہی نہیں
اور اب تو بات بھی بس سر سری ہوا کرے گی

تم اور میں تو یقینا وہاں جنم لیں گے
کہیں خلا میں اگر زندگی ہوا کرے گی

دانش نقوی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل