ادا جعفریاردو غزلیاتشعر و شاعری

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا

ادا جعفری کی ایک غزل

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا

یہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہا

جو دعا کو ہاتھ اٹھائے بھی تو مراد یاد نہ آ سکی

کسی کارواں کا جو ذکر تھا وہ پس غبار کہاں رہا

یہ طلوع روز ملال ہے سو گلہ بھی کس سے کریں گے ہم

کوئی دل ربا کوئی دل شکن کوئی دل فگار کہاں رہا

کوئی بات خواب و خیال کی جو کرو تو وقت کٹے گا اب

ہمیں موسموں کے مزاج پر کوئی اعتبار کہاں رہا

ہمیں کو بہ کو جو لیے پھری کسی نقش پا کی تلاش تھی

کوئی آفتاب تھا ضو فگن سر رہ گزار کہاں رہا

مگر ایک دھن تو لگی رہی نہ یہ دل دکھا نہ گلہ ہوا

کہ نگہ کو رنگ بہار پر کوئی اختیار کہاں رہا

سر دشت ہی رہا تشنہ لب جسے زندگی کی تلاش تھی

جسے زندگی کی تلاش تھی لب جوئبار کہاں رہا

ادا جعفری

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button