- Advertisement -

ایک سمیں تم ہم فقرا سے اکثر صحبت رکھتے تھے

میر تقی میر کی ایک غزل

ایک سمیں تم ہم فقرا سے اکثر صحبت رکھتے تھے
اور نہ تھی توفیق تمھیں تو بوسے کی ہمت رکھتے تھے

آگے خط سے دماغ تمھارا عرش پہ تھا ہو وے ہی تم
پائوں زمیں پر رکھتے تھے تو خدا پر منت رکھتے تھے

اب تو ہم ہو چکتے ہیں ٹک تیرے ابرو خم ہوتے
کیا کیا رنج اٹھاتے تھے جب جی میں طاقت رکھتے تھے

چاہ کے سارے دیوانے پر آپ سے اکثر بیگانے
عاشق اس کے سیر کیے ہم سب سے جدی مت رکھتے تھے

ہم تو سزاے تیغ ہی تھے پر ظلم بے حد کیا معنی
اور بھی تجھ سے آگے ظالم اچھی صورت رکھتے تھے

آج غزال اک رہبر ہوکر لایا تربت مجنوں پر
قصد زیارت رکھتے تھے ہم جب سے وحشت رکھتے تھے

کس دن ہم نے سر نہ چڑھاکر ساغر مے کو نوش کیا
دور میں اپنے دختر رز کی ہم اک حرمت رکھتے تھے

کوہکن و مجنون و وامق کس کس کے لیں نام غرض
جی ہی سے جاتے آگے سنے وے لوگ جو الفت رکھتے تھے

چشم جہاں تک جاتی تھی گل دیکھتے تھے ہم سرخ و زرد
پھول چمن کے کس کے منھ سے ایسی خجلت رکھتے تھے

کام کرے کیا سعی و کوشش مطلب یاں ناپیدا تھا
دست و پا بہتیرے مارے جب تک قدرت رکھتے تھے

چتون کے کب ڈھب تھے ایسے چشمک کے تھے کب یہ ڈول
ہائے رے وے دن جن روزوں تم کچھ بھی مروت رکھتے تھے

لعل سے جب دل تھے یہ ہمارے مرجاں سے تھے اشک چشم
کیا کیا کچھ پاس اپنے ہم بھی عشق کی دولت رکھتے تھے

کل کہتے ہیں اس بستی میں میر جی مشتاقانہ موئے
تجھ سے کیا ہی جان کے دشمن وے بھی محبت رکھتے تھے

میر تقی میر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل