اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

ہجوم رنج و غم میں کھو گئے ہم

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

ہجوم رنج و غم میں کھو گئے ہم
زمانے کے مقابل ہو گئے ہم

شب تاریک کی زد سے نکل کر
سحر کی ظلمتوں میں کھو گئے ہم

چلو اپنوں نے بھی نظریں بدل لیں
وطن میں بھی مسافر ہو گئے ہم

اسی غفلت نے باقیؔ مار ڈالا
کہ جب تقدیر جاگی سو گئے ہم

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button