اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

کیا دور جہاں سے ڈر گئے ہم

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

کیا دور جہاں سے ڈر گئے ہم
کیوں تجھ سے گریز کر گئے ہم

حیرت ہے کہ سامنے سے تیرے
غیروں کی طرح گزر گئے ہم

وہ دور بھی زندگی میں آیا
محسوس ہوا کہ مر گئے ہم

اے دشت حیات کے بگولو
ڈھونڈو تو سہی کدھر گئے ہم

آئی یہ کدھر سے تیری آواز
چلتے چلتے ٹھہر گئے ہم

گزری ہے صبا قفس سے ہو کے
لینا غم بال و پر گئے ہم

ساحل کا مرحلہ ہے باقیؔ
طوفاں سے تو پار اتر گئے ہم

باقی صدیقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button