اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

آب مانگو، سراب ملتا ہے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

آب مانگو، سراب ملتا ہے
اس طرح بھی جواب ملتا ہے

سینکڑوں گردشوں کے بعد کہیں
ایک جام شراب ملتا ہے

یا مقدر کہیں نہیں ملتا
یا کہیں محو خواب ملتا ہے

جتنا جتنا خلوص ہو جس کا
اتنا اتنا عذاب ملتا ہے

غم کی بھی کوئی حد نہیں باقیؔ
جب ملے بے حساب ملتا ہے

باقی صدیقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button