آسناتھ کنولاردو شاعریاردو غزلیات

اشک در اشک بھرے آنکھ سنبھلنے لگی ہے

آسناتھ کنول کی ایک اردو غزل

اشک در اشک بھرے آنکھ سنبھلنے لگی ہے
خواب کے کھیل سے اب یاد بہلنے لگی ہے
تو سمندر ہے اگر تیرا کنارہ میں ہوں
موج ہر سمت سے اب ضبط میں ڈھلنے لگی ہے
شہر کے شیشہ گرو ریت ہی تقسیم کرو
اب کے صحرا کی بھی تقدیر بدلنے لگی ہے
پھر کسی دھیان سے عرفان میں اترے ہونگے
روشنی جسم کے اندر سے نکلنے لگی ہے
ان ندی نالوں کی تحقیر نہ کرنا ہرگز
ایک امید کے اب آنکھ میں پلنے لگی ہے
ہجر کی دھوپ نے گھیرا ہے کئی بار ھمیں
حوصلہ مند کے پروائی بھی چلنے لگی ہے
تیرے چہرے پہ بھی دیکھے ہیں بدلتے منظر
اپنے اطراف بھی اک شام سی ڈھلنے لگی ہے
آس کی سبز رتیں آ کے ٹھر جائیں کہیں
ایک قندیل ہواؤں میں بھی جلنے لگی ہے

آسناتھ کنول

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button