- Advertisement -

یہ تو نہیں کہ ہم نے رستہ چھوڑ دیا ہے

تجدید قیصرکی ایک اردو غزل

یہ تو نہیں کہ ہم نے رستہ چھوڑ دیا ہے
اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنا چھوڑ دیا ہے

آیا تھا جو مجھ سے ملنے کون تھا وہ
اُس نے باہر اک گلدستہ چھوڑ دیا ہے

آدھا بھرا گلاس مجھے اچھا لگتا ہے
آدھا پانی پی کر آدھا چھوڑ دیا ہے

مجھ کو کرتے پینٹ مصوّر کیسے تو نے
آنکھوں کے نیچے کا حلقہ چھوڑ دیا ہے

جس کی آنکھوں میں دکھتا تھا اپنا سایہ
اُس لڑکے نے خواب میں آنا چھوڑ دیا ہے

تجدید قیصر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
تجدید قیصرکی ایک اردو غزل