- Advertisement -

مجھے نہ چھوڑنا سے مجھے نہ چھونا تک

روبینہ فیصل کا ایک اردو کالم

مجھے نہ چھوڑنا سے مجھے نہ چھونا تک
میرے پاس تم ہو

ایک عجیب مافوق افطرت ڈرامہ جس کا رائٹر خود کوخدا سمجھ رہا ہے تو کچھ غلط نہیں سمجھ رہا کیونکہ ایسے وفادار اور محبت میں مرنے والے کردار اصلی خدا نے تو بنانے بند کئے ہوئے ہیں۔ مرد کو وفا کی پتلی دکھا کر نہ صرف ایک ناقابل یقین حرکت کی ہے بلکہ تمام رشتوں کو مشکوک کر دیا ہے ۔ آج کل تو مائیں بچوں لی وفادار نہیں ( جیسا کہ اس ڈرامے میں بھی دکھایا گیا )۔ مائیں اپنے ارادوں اور مستقبل اور مزوں کے لئے ساری حدیں پار کر رہی ہیں تو مرد اتنا باوفا اور با حیا کہاں سے ہوُگیا کہ مرتے مرتے بھی کہہ رہا ہے کہ مجھے چھونا نہیں مجھے چھونا نہیں ۔۔۔ بات صرف عورت کی بے وفائی تک رہتی تو آجکل کے حالات میں ٹھیک ہوُسکتی ہے وہ بھی آٹے میں نمک کے برابر کہ عورت اپنا بچہ چھوڑ دے ۔۔۔ عورتیں اپنے بچے بیچ بھی دیتی ہیں کبھی غربت کے ہاتھوں کبھی کسی اور مقاصد کے لئے ۔۔ خاص کر کے بیٹیوں کو بیچنا کونسی نئی بات ہے ۔آجکل کئیرئر بنانے کے لئیے لڑکیوں کو تقریبا پڑھی لکھی طوائفیں بنا دیا گیا ہے کہ جو طریقہ استعمال کرو بس کامیاب ہو جاو یہ تو پھر بچہ چھوڑ جانے کی بات تھی ڈرامے میں وہ بھی پیار کرنے والے باپ کے پاس ۔۔۔ مگر چھونا نہیں چھونا نہیں کی گردان وہ بھی آخری سانسوں میں ۔۔۔ کمال ہی چھوڑی ہے رائٹر نے کہ اصل مدعا بھی غائب کر دیا ۔۔۔بات با اثر ہوُسکتی تھی مگر اس مبالغے نے ابکائی کا احساس پیدا کر دیا ۔
کون سی وفا بابا کون سا کردار کون سی حیا کون سی مروت کون سی نیکی آج کل نیکی کرنے والے کو جوتیوں کے ہار کے سوا کچھ نہیں ملتا ہے ۔وہ عورت ماہا جو اپنے شوہر سے علیحدگی میں رہ رہی تھی وہ بھی اینڈ پر ایسے ایسے محبت کے فلسفے بھگارتی ہے کہ اتنی کتابیں پڑھ کر بھی احساس محرومی سی لگی کہ ہم کو نہ پتہ چلا اس محبت کا
مفاد پرستی،موقع پرستی اور منافقت کے اس دور میں جب سگے رشتے دل میں بغض رکھ کے ملتے ہیں،استعمال کرتے اور پھینک دیتے اور جس نے احسان کیا ہو یا سچا پیار کیا ہو اس کا ٹھٹھہ لگاتے ہیں کہ بڑی آئی یا آیا خلوص دکھانے والا یا محبت کرنے والا ۔۔۔مذاق اڑایا جاتا ہے اور سچائی کو دنیا کی حقیر چیز ثابت کیا جاتا ہے نیکی کرنے والا سر جھکائے اپنے کئے پر نادم ہونے کے سوا کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتا ۔ تو ایسے میں دانش جیسے سیانے اور باحیا باوفا کردار لکھنے والے رائٹر کو خود کو خدا اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کا مکمل حق ہے ۔زندہ باد ڈراموں میں اتنی بونگیاں چھوڑنے والے رائٹر کہ لوگ خوشی سے دیوانے ہو اٹھے کہ یہ سب نایاب چیزیں کہیں تو دیکھنے کو ملیں ۔۔۔۔۔ زندہ باد۔چھونا نہیں چھونا نہیں ۔
روبینہ فیصل

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از نوشی گیلانی