اردو نظمانجلا ہمیششعر و شاعری

سچ

انجلاء ہمیش کی ایک اردو نظم

سچ

سچ کہاں ہے

تاریخ کے اوراق میں

تاریخ سے بڑا دھوکہ تو کچھ نہیں

تاریخ تو اپنے اپنے دلالوں کے ماتحت رہی

کوئی جھوٹ کس طرح سچ میں تبدیل ہوجاتاہے

اُس کا جواب دینے کے لئے سیتا باقی نہ رہی

ہر اُس موڑ پہ بات ادھوری رہ گئی

جو اگر مکمل ہوجاتی

تو اہلِ فساد کا کاروبار کیسے چلتا

تو کیا کسی چیز کو حلال کرنے کے لئے

حرام کی آمیزش درکار ہے

کہیں ایسا تو نہیں ۔ ۔

رسول کے نام لیوا

ابوجہل کے راستے پر چل پڑے ہوں

کہیں ایسا تونہیں ۔ ۔

فلسفہَ شہادت کا درس

یزید دے رہا ہو

انجلاء ہمیش

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button