اردو غزلیاتحسرت موہانیشعر و شاعری

ہے مشق سخن جاری چکّی کی مشقت بھی

حسرت موہانی کی ایک اردو غزل

ہے مشق سخن جاری چکّی کی مشقت بھی

اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

جو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھُل کھیلو

پر ہم سے قسم لے لو کہ ہو جو شکایت بھی

خود عشق کی گستاخی سب تجھ کو سکھا لے گی

اے حُسن حیا پر ور شوخی بھی شرارت بھی

عُشّاق کے دل نازک اس شوخ کی خو نازک

نازک اسی نسبت سے ہے کار محبت بھی

اے شوق کی بے باکی وہ کیا تری خواہش تھی

جس پر انہیں غصّہ ہے انکار بھی حیرت بھی

حسرت موہانی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button