- Advertisement -

ہے مشق سخن جاری چکّی کی مشقت بھی

حسرت موہانی کی ایک اردو غزل

ہے مشق سخن جاری چکّی کی مشقت بھی

اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

جو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھُل کھیلو

پر ہم سے قسم لے لو کہ ہو جو شکایت بھی

خود عشق کی گستاخی سب تجھ کو سکھا لے گی

اے حُسن حیا پر ور شوخی بھی شرارت بھی

عُشّاق کے دل نازک اس شوخ کی خو نازک

نازک اسی نسبت سے ہے کار محبت بھی

اے شوق کی بے باکی وہ کیا تری خواہش تھی

جس پر انہیں غصّہ ہے انکار بھی حیرت بھی

حسرت موہانی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
حسرت موہانی کی ایک اردو غزل