آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

تعلیمی پالیسیوں میں عدم تسلسل کا نقصان

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

پاکستان میں تعلیمی معیار ایک ایسا موضوع ہے جس پر برسوں سے گفتگو تو ہوتی رہی لیکن عملی اقدامات ہمیشہ ناکافی رہے۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں یہ بنیاد مسلسل کمزور ہو رہی ہے۔ تعلیمی زوال کی کئی وجوہات ہیں جنہیں سنجیدگی سے سمجھنا اور مؤثر حکمت عملی سے دور کرنا ناگزیر ہے۔

سب سے بنیادی مسئلہ حکومتی ترجیحات کا ہے۔ تعلیم کو ہمیشہ ثانوی حیثیت دی گئی۔ بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے اور پالیسیوں کے تسلسل کے فقدان نے نظام کو کمزور رکھا۔ جب پالیسی بدلتی رہے تو معیار قائم رہنا ممکن نہیں رہتا۔

ملک میں سرکاری اور نجی نظام تعلیم کا فرق بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ سرکاری ادارے سہولیات اور وسائل کی کمی کا شکار ہیں جبکہ نجی ادارے فیسوں کی وجہ سے عام شہری کی پہنچ سے باہر ہیں۔ یہ عدم مساوات معاشرے میں علمی، سماجی اور معاشی فاصلے بڑھا رہی ہے۔

اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت بھی اپنی جگہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ تدریس محض ذمے داری نہیں بلکہ ایک فن ہے جسے مسلسل تربیت درکار ہوتی ہے۔ جدید تدریسی طریقوں سے عدم واقفیت کے باعث طلبہ میں تحقیق، تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کی ترقی رک جاتی ہے۔

نصاب کا مسئلہ بھی توجہ طلب ہے۔ موجودہ نصاب دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ اس میں وہ عناصر کم ہیں جو نوجوانوں کو عملی زندگی، تحقیق اور مہارت کے میدان میں مضبوط کر سکیں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور نوجوان تب ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جب نصاب جدید سوچ اور عملی مہارتوں سے جڑا ہو۔

ملک کے کئی سرکاری سکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ پینے کے صاف پانی، بجلی، مناسب فرنیچر اور کلاس رومز کی کمی بچوں کے ذہنی ارتقا اور تعلیمی کیفیت دونوں پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ ایسے ماحول میں معیاری تعلیم کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔

امتحانی نظام میں خامیاں بھی مجموعی معیار کو متاثر کر رہی ہیں۔ رٹہ سسٹم نے حقیقی علم اور سمجھ کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ طلبہ نمبر لینے کی دوڑ میں وہ صلاحیتیں نہیں سیکھ پاتے جو عملی زندگی میں زیادہ اہم ہوتی ہیں۔

دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان تعلیمی فرق بھی ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ شہروں کے چند ادارے نسبتاً بہتر ہیں جبکہ دیہات میں تعلیم اب بھی بنیادی سہولیات کی کمی، اساتذہ کی غیر حاضری اور غیر مناسب ماحول کا شکار ہے۔ یکساں مواقع کی عدم دستیابی مجموعی معیار کو متاثر کرتی ہے۔

والدین کی عدم دلچسپی بھی تعلیمی معیار میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ اگر گھر کا ماحول تعلیمی سرگرمیوں کے لیے سازگار نہ ہو تو بچے پوری توجہ سے نہیں پڑھ پاتے۔ تعلیم کی کامیابی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب والدین اور اساتذہ دونوں اپنی بھرپور ذمے داری ادا کریں۔

تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت بھی گہرا اثر چھوڑ رہی ہے۔ بھرتیوں اور تقرریوں میں سفارش کے استعمال نے میرٹ کو کمزور کیا ہے۔ ایسے ماحول میں معیار مستحکم نہیں رہ سکتا۔

پاکستانی جامعات میں تحقیق کا فقدان بھی ہمارے تعلیمی زوال کا اہم پہلو ہے۔ تحقیق وہ بنیاد ہے جس سے اقوام ترقی کرتی ہیں۔ وسائل اور منصوبہ بندی کے فقدان نے ہمارے تحقیقی معیار کو عالمی سطح سے بہت پیچھے کر دیا ہے۔

مستقبل کے تقاضوں سے عدم آگہی بھی بڑا مسئلہ ہے۔ نوجوان ڈگریاں تو حاصل کر لیتے ہیں مگر مہارت نہ ہونے کے باعث روزگار کے میدان میں خود کو ثابت کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

پاکستان میں تعلیمی معیار کی بہتری ایک مشکل لیکن ضروری چیلنج ہے۔ اس کے لیے جامع پالیسی، مستقل مزاجی، جدید سوچ، بہتر تربیت اور حقیقی سیاسی عزم درکار ہے۔ اگر ریاست استاد، طالب علم اور نصاب تینوں ستون مضبوط کر دے تو پاکستان کا تعلیمی مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button