آپ کا سلاماردو غزلیاتاظہر عباس خانشعر و شاعری
فِیٛ اَحٛسَنِ تَقٛوَیٛمٛ کی تفسیر
اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل
فِیٛ اَحٛسَنِ تَقٛوَیٛمٛ کی تفسیر دِکھا دوں
چل آ میں تجھے تیری ہی تصویر دِکھا دوں
کرتا ہوں شب و روز محبت کا وظیفہ
تُو آنکھ ملا میں تجھے تاثیر دِکھا دوں
اِک آہ نَجومی نے بھری اور یہ بولا
لا ہاتھ بڑھا پھر تجھے تقدیر دِکھا دوں
اِک شعر سناوں میں تجھے نعتِ نبیﷺ کا
الفاظ کی بڑھتی ہوئی توقیر دِکھا دوں
اِک زورِ تخیل میں ترا حُسن ملایا
اب ہو گئی جنت مری تعمیر ، دِکھا دوں
اِس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے منشور ہے میرا
تُو خواب دکھا میں ابھی تعبیر دِکھا دوں
کچھ سوچ کے بولا یہ مصوّر کہ بتائیں
تصویر میں دونوں کو بغلگیر دِکھا دوں
ہر دور میں عُشَّاق عقیدے پہ ہیں قائم
ما بعد جدید اور اساطیر دِکھا دوں
زندان سے جب نکلوں تو صیاد کا گِریہ
اور پاوُں پکڑتی ہوئی زنجیر دِکھا دوں
وہ نیند کی سرحد سے ہے اُس پار علاقہ
کل خواب میں آو تمھیں جاگیر دِکھا دوں
اظہر عباس خان








