آشفتہ چنگیزی
آشفتہ چنگیزی اپنی مختلف آواز اور لب و لہجے کے ساتھ جانے جاتے ہیں۔ آشفتہ چنگیزی نے غزل اور نظم دونوں صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی۔آشفتہ چنگیزی علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعروں میں سے ایک ہیں۔وہ 1956میں پیدا ہوئے 1996میں اچانک کہیں لا پتہ ہو گئے۔آشفتہ چنگیزی،ایک بہترین شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد ذہین انسان اور ماہر عروض بھی تھے۔آشفتہ کی غزلوں کا نہایت طاقتور اسلوب اسی کی دہائی میں کہی گئی ان کی غزلوں میں نظر آتا ہے۔ان کے دو مجموعۂ شاعری ’گرد باد‘ اور ’شکستوں کی فصل‘ شائع ہوئے اور دونوں میں شائع ہونے والی غزلوں میں سے بیشتر کو یہاں ادبی دنیا کے ذریعے پیش کیا جا رہا ہے۔حالانکہ اس غزل میں روایت کا عنصر زیادہ ہے، مگر جدید شاعری سے روایت کے دھارے الگ ہوتے ہوئے بھی انہی غزلوں میں بہ آسانی دیکھے جاسکتے ہیں۔
-

سبھی کو اپنا سمجھتا ہوں
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
-

جس کی نہ کوئی رات
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
-

کوئی غل ہوا تھا نہ شور خزاں
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
-

ٹھکانے یوں تو ہزاروں ترے جہان میں تھے
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
-

گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
-

خبر تو دور امین خبر نہیں آئے
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
-

دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
-

گھروندے خوابوں کے
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
-

آنکھوں کے سامنے کوئی منظر نیا نہ تھا
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
-

ہمارے بارے میں کیا کیا نہ کچھ کہا ہوگا
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
-

سلسلہ اب بھی خوابوں کا ٹوٹا نہیں
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
-

جس سے مل بیٹھے لگی
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
-

بدن بھیگیں گے برساتیں رہیں گی
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
-

عقد نامے
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو نظم
-

فریادی ماتم
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو نظم
-

قصہ گو
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو نظم
-

نجات
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو نظم
-

واپسی
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو نظم
-

طے شدہ موسم
آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو نظم