آشفتہ چنگیزیاردو غزلیاتشعر و شاعری

جس سے مل بیٹھے لگی

آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل

جس سے مل بیٹھے لگی وہ شکل پہچانی ہوئی
آج تک ہم سے یہی بس ایک نادانی ہوئی

سیکڑوں پردے اٹھا لائے تھے ہم بازار سے
گتھیاں کچھ اور الجھیں اور حیرانی ہوئی

ہم تو سمجھے تھے کہ اس سے فاصلے مٹ جائیں گے
خود کو ظاہر بھی کیا لیکن پشیمانی ہوئی

کیا بتائیں فکر کیا ہے اور کیا ہے جستجو
ہاں طبیعت دن بہ دن اپنی بھی سیلانی ہوئی

کیوں کھلونے ٹوٹنے پر آب دیدہ ہو گئے
اب تمہیں ہم کیا بتائیں کیا پریشانی ہوئی

آشفتہ چنگیزی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button