اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

چھا کر دلوں پہ ان کی نظر مطمئن نہیں

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

چھا کر دلوں پہ ان کی نظر مطمئن نہیں
تاروں کو روند کر بھی سحر مطمئن نہیں

ہونٹوں سے آہیں چھیننے والے ادھر تو دیکھ
ہم چپ تو ہو گئے ہیں مگر مطمئن نہیں

روداد غم ہے اب نئے عنواں کی فکر میں
آنسو بہا کے دیدہ تر مطمئن نہیں

غم رفتہ رفتہ بڑھتے گئے زندگی کے ساتھ
دل مطمئن ہوا تو نظر مطمئن نہیں

روز ایک تازہ حادثہ لائے کہاں سے زیست
مانا کہ دور شام و سحر مطمئن نہیں

کس کاروان شوق کا باقیؔ ہے انتظار
کیوں زندگی کی راہگزر مطمئن نہیں

باقیؔ عجیب روگ ہے یہ رنگ و بو کی پیاس
دل مطمئن ہوا تو نظر مطمئن نہیں

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button