اردو غزلیاتخورشید رضویشعر و شاعری

پلٹ کر اشک سوئے چشم تر آتا نہیں ہے

خورشید رضوی کی ایک اردو غزل

پلٹ کر اشک سوئے چشم تر آتا نہیں ہے

یہ وہ بھٹکا مسافر ہے جو گھر آتا نہیں ہے

قفس اب آشیاں ہے خاک پر لکھی ہے روزی

کبھی دل میں خیال بال و پر آتا نہیں ہے

پہاڑوں کی سیاہی سے فزوں دل کی سیاہی

وہ حسن اب اپنی آنکھوں کو نظر آتا نہیں ہے

شجر برسوں سے نقش رائیگاں بن کر کھڑے ہیں

کوئی موسم ہو شاخوں میں ثمر آتا نہیں ہے

مرے اس اولیں اشک محبت پر نظر کر

یہ موتی سیپ میں پھر عمر بھر آتا نہیں ہے

کوئی قاتل رواں ہے میری شریانوں میں خورشیدؔ

جو مجھ کو قتل کرتا ہے نظر آتا نہیں ہے

خورشید رضوی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button