کسی دن آؤ، ہم اک جوتشی کے پاس چلتے ہیں
ذرا سمجھائے، اتنا کیوں اکڑ کر داس چلتے ہیں
بڑی آشائیں لے کر ہم تو اس نگری میں اترے تھے
نہ آئی ہے ہمیں یہ جھوٹی دنیا راس، چلتے ہیں
یہ کیا نگری ہے جس میں ہر کوئی اپنا پُجاری ہے
نہیں زندہ کوئی، ان میں فقط انفاس چلتے ہیں
ہمیں لگتا ہے ہم بھی سامریؔ کی زد میں آئے ہیں
کوئی کھینچے چلی جاتی ہے ہم کو باس، چلتے ہیں
کہیں پر بھوک رائج ہے، کوئی تو پاؤں ننگے ہے
کہیں جوتوں میں جڑ کر قیمتی الماس، چلتے ہیں
ہمیں اپنا بھی ہے، پر دوسروں کا غم ذیادہ ہے
زمانے بھر کی جیسے من میں لے کر پیاس چلتے ہیں
حکومت نے غریبوں پر ستم ڈھائے ہیں درپردہ
ابھی دوبھر ہؤا جاتا جو ہے افلاس، چلتے ہیں
کسی دوجے نگر میں جا کے رہنے میں بھلائی ہے
یہاں سب بھیڑیے ہیں نوچتے ہیں ماس، چلتے ہیں
سجا رکھے ہیں ماتھے پر بڑے ہی داغ سجدوں کے
سمجھ آئی نہ ان کو "سورۂِ والنّاس” ، چلتے ہیں
توقع دست گیری کی نہیں رتّی برابر بھی
نہیں کرتے مشرؔ سے کوئی بھی ارداس، چلتے ہیں
بڑی مشکل سے حسرتؔ ہم نے اندر کو نچوڑا ہے
کہیں پھر سے نہ ہم میں جاگ جائے واس، چلتے ہیں
رشید حسرتؔ
(۱) مشر پشتو میں بڑے، سرکردہ، کرتا دھرتا یا حاکم کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
۲۸ دسمبر ۲۰۲۴، رات ۱۰ بج کر ۴۸ منٹ پر یہ غزل مکمل ہوئی ہے








