اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

بندھا رات آنسو کا کچھ تار سا

میر تقی میر کی ایک غزل

بندھا رات آنسو کا کچھ تار سا
ہوا ابر رحمت گنہگار سا

کوئی سادہ ہی اس کو سادہ کہے
لگے ہے ہمیں تو وہ عیار سا

محبت ہے یا کوئی جی کا ہے روگ
سدا میں تو رہتا ہوں بیمار سا

گل و سرو اچھے سبھی ہیں ولے
نہ نکلا چمن میں کوئی یار سا

جو ایسا ہی تم ہم کو سمجھو ہو سہل
ہمیں بھی یہ جینا ہے دشوار سا

فلک نے بہت کھینچے آزار لیک
نہ پہنچا بہم اس دل آزار سا

مگر آنکھ تیری بھی چپکی کہیں
ٹپکتا ہے چتون سے کچھ پیار سا

چمن ہووے جو انجمن تجھ سے واں
لگے آنکھ میں سب کی گل خار سا

کھڑے منتظر ضعف جو آگیا
گرا اس کے در پر میں دیوار سا

دکھائوں متاع وفا کب اسے
لگا واں تو رہتا ہے بازار سا

عجب کیا جو اس زلف کا سایہ دار
پھرے راتوں کو بھی پری دار سا

نہیں میر مستانہ صحبت کا باب
مصاحب کرو کوئی ہشیار سا

میر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button