- Advertisement -

کوئی سمجھے تجھے نا مہرباں کیوں

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

کوئی سمجھے تجھے نا مہرباں کیوں
مگر تجھ سے ہے دنیا بدگماں کیوں

کوئی تو بات ہے اظہار غم میں
وگرنہ لڑکھڑاتی ہے زباں کیوں

ابھرتا ہے یہیں سے ہر تلاطم
بلندی سے خفا ہیں پستیاں کیوں

جو اپنی رہگزر سے آشنا ہو
وہ دیکھے نقش پائے رہرواں کیوں

اداسی منزلوں کی کہہ رہی ہے
ادھر سے کوئی گزرے کارواں کیوں

مسافر کوئی شاید لٹ گیا ہے
چراغ راہ دے اٹھا دھواں کیوں

جہاں تیری نطر ہو کار فرما
وہاں باقیؔ رہے میرا نشاں کیوں

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل