اردو غزلیاتشعر و شاعریصباحت واسطی

مری نظر مرا اپنا مشاہدہ ہے کہاں

ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کی ایک اردو غزل

مری نظر مرا اپنا مشاہدہ ہے کہاں

جو مستعار نہیں ہے وہ زاویہ ہے کہاں

اگر نہیں ترے جیسا تو فرق کیسا ہے

اگر میں عکس ہوں تیرا تو آئنہ ہے کہاں

ہوئی ہے جس میں وضاحت ہمارے ہونے کی

تری کتاب میں آخر وہ حاشیہ ہے کہاں

یہ ہم سفر تو سبھی اجنبی سے لگتے ہیں

میں جس کے ساتھ چلا تھا وہ قافلہ ہے کہاں

مدار میں ہوں اگر میں تو ہے کشش کس کی

اگر میں خود ہی کشش ہوں تو دائرہ ہے کہاں

تری زمین پہ کرتا رہا ہوں مزدوری

ہے سوکھنے کو پسینہ معاوضہ ہے کہاں

ہوا بہشت سے بے دخل جس کے باعث میں

مری زبان پر اس پھل کا ذائقہ ہے کہاں

ازل سے ہے مجھے درپیش دائروں کا سفر

جو مستقیم ہے یا رب وہ راستہ ہے کہاں

اگرچہ اس سے گزر تو رہا ہوں میں عاصمؔ

یہ تجربہ بھی مرا اپنا تجربہ ہے کہاں

ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button