اختر عثماناردو غزلیاتشعر و شاعری

کہاں یہ خون میں لَت پَت

اختر عثمان کی ایک اردو غزل

کہاں یہ خون میں لَت پَت کمان سُوکھتی ہے
جو دیکھتے ہی پرندوں کی جان سُوکھتی ہے

مجھ ایسا شخص اگر تشنگیِ اہلِ وفا
رقم کرے تو قلم کی زبان سُوکھتی ہے

تری نگہ کی نمی مجھ تک آئے بھی کیسے !
ہَوا کی سانس کہیں درمیان سُوکھتی ہے

چمک دمک ہے ، مہک ہے مری ذرا کی ذرا
لہو کی لہر ہے ، سو کوئی آن سُوکھتی ہے

یہ اور بات کہ پہلے ہو اَبر سے سیراب
مگر زمین سے پہلے چٹان سُوکھتی ہے

اختر عثمان

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button