اردو غزلیاتافتخار شاہدشعر و شاعری

سچ کے بدلے میں کیا ملا ہو گا

افتخار شاہد کی ایک اردو غزل

سچ کے بدلے میں کیا ملا ہو گا
عشق سُولی پہ چڑھ گیا ہو گا

اور آخر تُو رو پڑی ہو گی
حوصلہ تو بڑا کیا ہو گا

اس نے پائل اتار لی ہو گی
دھیرے دھیرے قدم دھرا ہو گا

کس کے قدموں سے خاک مہکی ہے
راستہ اب بھی سوچتا ہو گا

کوئی تجھ سا حسین ہے ہی نہیں
آئینہ سب سے بولتا ہو گا

اس کی پنڈلی کھلی جو پانی میں
چاند تو ڈُوب ہی مرا ہو کا

افتخار شاھد

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button