آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعری

اتنے برس گزار دیے، میسج نہیں کیا

میر حسن کی ایک اردو غزل

اتنے برس گزار دیے، میسج نہیں کیا
تیرے بغیر دیکھ، میں مر تو نہیں گیا

تم بھول بھی گئے تو کوئی بات نہیں ہے
مجھ سے مگر یہ عشق بھلایا نہیں گیا

ہجر کے آنسوؤں نے تیرا نقش نہ دھویا
دل سے ترا خیال بھی مٹایا نہیں گیا

ایسا نہیں کہ اُس کو محبت نہیں تھی
چاہا تو اُس نے بہت، مگر کہا نہیں گیا

اک تیرا تصور تھا، جو تصویر ہو گیا
پھر رفتہ رفتہ عشق بھی زنجیر ہو گیا

میں تیرے غم میں عمر گزار آتا، مگر
مجھ سے غمِ معاش بھلایا نہیں گیا

گردشِ ایّام سے گھبرا کے میں نے
سوچا تمہیں بہت، مگر پکارا نہیں گیا

سورج کے ساتھ ساتھ مرا دل بھی ڈوب گیا
شام کا ایسا درد مجھ سے دیکھا نہیں گیا

فرصت ملے تو لوٹ کے آنا حسنؔ کے پاس
تیرا مقام دل سے مٹایا نہیں گیا

میر حسن

post bar salamurdu

میر حسن

میرا نام حسنؔ ہے، جو کہ میرا ہی انتخاب ہے، تعلق منڈی بہاؤالدین، پنجاب سے ہے۔مادری زبان پنجابی ہے، مگر اردو سے بھی محبت ہے اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق۔ جو بات زبان کہنے سے رہ جائے، اسے قلم کے سپرد کر دیتا ہوں۔ محبت، ہجر اور زندگی کے اَن کہے احساسات میری شاعری کا محور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button