اتنے برس گزار دیے، میسج نہیں کیا
تیرے بغیر دیکھ، میں مر تو نہیں گیا
تم بھول بھی گئے تو کوئی بات نہیں ہے
مجھ سے مگر یہ عشق بھلایا نہیں گیا
ہجر کے آنسوؤں نے تیرا نقش نہ دھویا
دل سے ترا خیال بھی مٹایا نہیں گیا
ایسا نہیں کہ اُس کو محبت نہیں تھی
چاہا تو اُس نے بہت، مگر کہا نہیں گیا
اک تیرا تصور تھا، جو تصویر ہو گیا
پھر رفتہ رفتہ عشق بھی زنجیر ہو گیا
میں تیرے غم میں عمر گزار آتا، مگر
مجھ سے غمِ معاش بھلایا نہیں گیا
گردشِ ایّام سے گھبرا کے میں نے
سوچا تمہیں بہت، مگر پکارا نہیں گیا
سورج کے ساتھ ساتھ مرا دل بھی ڈوب گیا
شام کا ایسا درد مجھ سے دیکھا نہیں گیا
فرصت ملے تو لوٹ کے آنا حسنؔ کے پاس
تیرا مقام دل سے مٹایا نہیں گیا
میر حسن








