آپ کا سلاماردو نظمشازیہ اکبرشعر و شاعری

پت جھڑ

شازیہ اکبر کی اردو نطم

پت جھڑ

کبھی پت جھڑکی شاموں میں
یہ پتے زرد پیڑوں پر
ہوا کے ایک جھونکے سے
لرزتے کپکپاتے ہیں
جدا ہو کر درختوں سے
زمیں پر پھیل جا تے ہیں
کہ جیسے میری پلکوں پر
کُچھ آنسو جھلملاتے ہیں
یقیں کی کھوج میں اکثر
گماں کی زد پہ آتے ہیں
یہ سارے زرد رُو پتے
یہ سارے بے گماں آنسو
کسی سے خوف کھاتے ہیں
اچانک ٹوٹ جاتے ہیں

شازیہ اکبر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button