- Advertisement -

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا

داغ دہلوی کی اردو غزل

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانہ دل کا
تم بھی چوم لو، بے ساختہ پیار آ جائے
میں سناؤں جو کبھی دل سے فسانہ دل کا
ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہ
ہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا
پوری مہندی بھی لگانی نہیں آئی اب تک
کیوں کر آیا تجھے غیروں سے لگانا دل کا
حور کی شکل ہو تم، نور کے پتلے ہو تم
اور اس پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا
بعد مدت کے یہ اے داغ سمجھ میں آیا
وہی دانا ہے، کہا جس نے نہ مانا دل کا

داغ دہلوی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل