آپ کا سلاماختصاریئےاردو تحاریراردو کالمزمحمد حسین بہشتی

ہم کہیں کے نہ رہے!

ایک اردو تحریر از محمد حسین بہشتی

علامہ اقبالؒ کی فکر نے نہ صرف عوام الناس کو متاثر کیا بلکہ دانشوروں کے دلوں کو بھی منور کیا۔ ان کی شاعری برصغیر کے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئی۔ ان کے کلام میں اسلامی تعلیمات کا وہ خزینہ تھا جس نے ایک قوم کو خواب غفلت سے بیدار کیا۔ انہوں نے اپنی انقلابی شاعری سے مسلمانوں کو آزادی کی اہمیت سمجھائی اور ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کی۔
اقبالؒ کی انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں نے پہلے انگریزوں اور پھر ہندوؤں سے آزادی حاصل کرنے کا عزم کیا اور بالآخر ایک علیحدہ وطن "پاکستان” کی صورت میں اپنا مقصد حاصل کر لیا۔
لیکن آج بے حد افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال جیسی عظیم ہستیوں کے خوابوں کا پاکستان کہاں اور آج کا پاکستان کہاں؟ یہ ملک انگریزوں کی غلامی سے تو آزاد ہوا مگربدقسمتی سے وہ لوگ اس پر حاوی ہو گئے جن کی ذہنیت غلامانہ تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج پاکستانی قوم کی حالت اس مشہور شعر کی مانند ہو گئی ہے:
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
پاکستان قیام کے بعد سے آج تک نہ تو امن کی دولت سے سرفراز ہو سکا ہے اور نہ ہی کبھی حقیقی جنگ کے لیے یکجا ہو سکا ہے۔ ہمیشہ کشیدگی اور بے یقینی کی فضا میں جیتے رہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہونے والا ہے۔
کبھی مسجد اور امام بارگاہ میں دھماکہ ہوتا ہے تو کبھی افواج اور پولیس پر حملے ہوتے ہیں۔ کبھی بھارت، کبھی کشمیر، کبھی تکفیری دہشت گرد اور کبھی افغان طالبان کے نام پر اس ملک کی امن و سکون کی نذر ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ قوم کس جرم کی سزا بھگت رہی ہے؟
سب سے بڑھ کر افسوسناک بات یہ ہے کہ عوام کو مختلف گروہوں اور سیاسی پارٹیوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ آج کوئی بھی جماعت یا گروہ اس قابل نہیں رہا کہ صحیح معنوں میں قیادت کر سکے۔ ہر طرف ذاتی مفادات اور گروہی تعصبات کا بول بالا ہے۔
ایسے میں بس ایک ہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کی عاقبت بخیر کرے اور ہمیں وہ راستہ دکھائے جس کا خواب علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ نے دیکھا

محمد حسین بہشتی

post bar salamurdu

محمد حسین بہشتی

نام : محمد حسین بہشتی پیدائش : 1969م سندوس سکردو ابتدائی تعلیم : سندوس سکردو اعلی تعلیم : گر یجو یشن کراچی یونیورسٹی شغل : تحقیق (ریسرچ سیکا لر )( اب تک 200 سو مقالہ اور 25 کتابیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button