بہت دیر بعد کچھ لکھنے کا خیال آیا۔
سوچا آج کچھ ایسا لکھوں جو دل سے ھو۔
تو دل میں بس اک خیال آیا
اور وہ ذکر محمد ﷺ
ایسا ذکر جس کے قبویت لازم ھے۔جس کے طفیل سب عطا ہوتا۔کبھی کبھی میں سوچتی ھوں۔
اگر نبی پاکﷺ ھمارے سامنے أۓ۔اور آکر کہیں ۔
عائشہ۔تمہارا ذکر کرنا۔مجھ پر دورد پاکﷺ بھیجنا۔تمھارا مجھے یاد کرنا میری زیارت کرنا اور اسکی دل میں تڑپ رکھنا بہت پسند ھے۔بس تم ایسے ہی ذکر کرتی رہو۔
تو یقین جانیے ۔میں ساری عمر درود پاکﷺ پڑھتے پڑھتے گزار دو۔یا مجھ سے کوئ سوال کرے۔
عائشہ۔تمہیں اولاد چاہیے۔یا شفاعت و زیارت محمد ﷺ
تو میں فورا کہہ دو شفاعت و زیارت محمد ﷺ
اولاد تو صرف دنیا تک ھے ۔ آپ ﷺ کی محبت و شفاعت تو آخرت سے لے کر جنت تک لے جاۓ گی۔دنیا کی طلب کیا طلب ھے۔
جس میں أپﷺ کی محبت نہ ھو۔
کتنے خوش نصیب ھوتے ہیں۔جو روضہ اقدس پر جاتے ہیں۔جالیوں کے سامنے کھڑے ہوکر أپ ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔
میں جب مدینے جاؤ گی ناں إنشاءاللّٰه تو آپ ٰﷺ سے جی بھر کر باتیں کروں گی۔
میں جس جگہ نماز پڑھتی ھوں اسکے بلکل سامنے روضہ پاکﷺ کی تصویر ھے ۔اور میں نماز سے فارغ ھو کر وہاں روضہ پاک کو دیکھتی رہتی ھوں۔دل کے غم باتیں خوشی سب أپﷺ کو بتاتے ھوں۔اور اک سکون سا دل میں آجاتا ھے۔
یہ سب محبت کی نشانی ھے۔ وہاں سے براہ رست جواب نہی آتا مگر جو سکون خوشی ملتی ھے وہ جواب ہی ھوتا۔
کبھی تصور کریں نبی پاک ﷺ کیسے دکھتے ھوں گے ۔أپ ﷺ کیسے باتیں کرتے ھوں گے ۔تھوڑی دیر کے لیے ایسے لگتا جسے ہم مدینے میں ہیں۔ وہ سامنے ہیں۔ مسکرا رہے ہیں۔
ہاۓ ۔کاش ایسا ھوتا ۔ہم انکو دیکھیں ۔باتیں کرے ۔اور وہ مجھ احمق کی باتیں سن۔ کر مسکرائیں۔ ویسے سچ بات ھے میں ان۔ سے باتیں کرتی ھوں۔ بس خواہش ھے آگے سے کوئ جواب آۓ۔
میرے ذہن میں اکثر یہ خیال آتا۔ جو محبت ہم أپﷺ سے کرتے ہیں اسکا تو نعم البدل ہی نہی۔ نہ ماں باپ۔ نہ بہن بھائ۔ نہ شوہر نہ اولاد۔یہ أپ ﷺ سے محبت ھی اولین و افضل ھے۔
شاید یہ الفاظ انکے بھی ھوں جو میری طرح آپ ﷺ کی محبت میں سرشار ہیں۔
جن کو طلب ھے آپﷺ کی شفاعت کی محبت کی انکے چہرے اقدس مبارک کی زیارت کی
تو میری دل سے دعا ھے اللہ پاک مجھ سمیت ان تمام مسلمانوں کی نبی پاک ﷺ کے عاشقوں کو آپ ﷺ کی شفاعت۔ محبت۔ زیارت نصیب فرماۓ۔ آمینﷺ ثم أمین۔
پڑھنے والوں سے گزارش ہے درودر پاک پڑھ کر نبی پاکﷺ کو تحفہ بھیجتے رھا کریں۔
اور سب کے لیے بطفیل محمد ﷺ دعا کرتے رہا کریں ۔اللہ سوہنا محمد ﷺ کے ۔طفیل سب عطا کر دیتا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰه۔
از قلم
صنم فاروق حسین








