- Advertisement -

ہوا آئی نہ ایندھن آ رہا ہے

ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا

ہوا آئی نہ ایندھن آ رہا ہے

چراغوں میں نیا پن آ رہا ہے

جمال یار تیرے جھانکنے سے

کنویں سے پانی روشن آ رہا ہے

میں گلیوں میں نکلنا چاہتا ہوں

مرے رستے میں آنگن آ رہا ہے

مجھے شہتوت کی خواہش بہت تھی

مگر مجھ پر تو جامن آ رہا ہے

میاں میں اپنی جانب آ رہا ہوں

خبر کر دو کہ دشمن آ رہا ہے

مجھے خیرات بانٹی جا رہی ہے

مرے ہاتھوں میں برتن آ رہا ہے

گلے میں ہار آنا چاہیے تھا

گلے میں طوق گردن آ رہا ہے

عاطف کمال رانا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا