اردو شاعریاردو غزلیاتسعید خان

زلف ِ جاناں تری خوشبو کے سہارے تک ہے

سعید خان کی اردو غزل

زلف ِ جاناں تری خوشبو کے سہارے تک ہے
یہ سفر صبح کے مجبور ستارے تک ہے

آؤ حالات کو پھر ہجر کا مجرم سمجھیں
ورنہ اس غم کا مداوا بھی ہمارے تک ہے

وقت آساں ہی سہی ہم پہ بظاہر لیکن
دشتِ فرقت میں گزر اپنا گزارے تک ہے

پیڑ ہوتے تو زمینوں کی حفاظت کرتے
اب تو موسم بھی ہواؤں کے اشارے تک ہے

کون رہتا ہے رواں اپنی حدوں سے باہر
شدتِ موج سمندر کے کنارے تک ہے

کچھ نئے زخم ہوئے اب مری پہچان سعید
سلسلہ درد کا سڈنی سے ہزارے تک ہے

سعید خان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button