- Advertisement -

لب ترے کی دل کشی سے ملتا ہے

ایک اردو غزل از عاصم ممتاز

لب ترے کی دل کشی سے ملتا ہے
پھول جب بھی تازگی سے ملتا ہے

تو نہ ہو جب بھی مقابل اس کے تو
آئنہ کب روشنی سے ملتا ہے

موت تجھ سے یوں ملوں گا ایک دن
جیسے کوئی زندگی سے ملتا ہے

تیری آنکھوں سے جو ملتا ہے سکوں
وہ نشہ کب مے کشی سے ملتا ہے

یہ ضرورت بھی عجب شے ہے وگرنہ
آدمی کب آدمی سے ملتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از عاصم ممتاز