- Advertisement -

میں اپنے فن سے ترا ذائقہ بدل لوں گا

صدیق صائب کی ایک اردو غزل

میں اپنے فن سے ترا ذائقہ بدل لوں گا
اگر یہ ہو نہ سکا مشغلہ بدل لوں گا

کسی بھی شرط پہ منزل نہیں بدلنے کا
زیادہ تو جو کہے راستہ بدل لوں گا

کسی کے دل میں زرا سا ملال گزرا تو
علم کو چھوڑ کے میں قافلہ بدل لوں گا

پرانا ربط نئے زاویے سے مت دیکھو
میں اپنی سوچ کا پھر زاویہ بدل لوں گا

یہ اپنے عکس پہ حیرت نہیں گورا مجھے
یہی رہا تو میں پھر آئینہ بدل لوں گ

دیے کا طاق سے، جو دل کا تیری یاد سے ہے
میں ایک روز یہی سلسلہ بدل لوں گا

مرا ارادہ تو صائب اٹل حقیقت ہے
یہ تیرا وہم کہ میں حوصلہ بدل لوں گا

صدیق صائب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شہزاد نیّرؔ کی ایک خوبصورت غزل