آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریضمیر قیس

دیئے سے ویسے ذرا پست قد

ضمیر قیس کی ایک اردو غزل

دیئے سے ویسے ذرا پست قد بھی ہوتی ہے
ہوا کے پاس تو وجہ ِ حسد بھی ہوتی ہے
یہ جنگ اتنی سہولت سے میں نہیں ہارا
مجھے لگا تھا کہ غیبی مدد بھی ہوتی ہے
درخت یوں ہی تو قبروں پہ اگ نہیں جاتے
کہیں پہ کوئی ولی کی لحد بھی ہوتی ہے
اب اپنے آئینہ خانے کو کیسے سمجھائیں
یہ شخصیت ہے مری جان رد بھی ہوتی ہے
تمام عمر رہے ہم تو شرمسار یہاں
کسے پتہ تھا کہ وحشت سند بھی ہوتی ہے
پڑی ہے جب بھی کبھی مجھ پہ بوکھلایا ہوں
تو کیا دلوں کی نظر اتنی بد بھی ہوتی ہے
پھر ایک شام کسی کے نہ لوٹ آنے سے
پتہ چلا کہ دعا مسترد بھی ہوتی ہے
کہیں ملیں وہ مرے زخم بھولنے والے
تو ان سے کہنا اذیت کی حد بھی ہوتی ہے
ضمیر وقتی ضرورت ہے بس محبت اور
کبھی یہ وقتی ضرورت اشد بھی ہوتی ہے

ضمیر قیس

post bar salamurdu

ضمیر قیس

ضمیرقیس ملتان سے تعلق رکھنے والا شاعر ہے غزلوں کے دو مجموعے شائع ہوچکے ہیں اس کے پہلے مجموعے سے ہی اس کی غزل اٹھان نے ثابت کردیا تھا کہ ملتان سے غزل کا ایک اہم شاعر منظر عام پر آرہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button