اپنے سامنے کتابیں پھیلائے وہ اپنی سرخ اور اداس آنکھوں کو بار بار رگڑ رہی تھی۔ شاید مسلسل رونے کی وجہ سے آج اسے اپنے بچپن سے لے کر اب تک کے سارے حالات اور واقعات یاد آرہے تھے۔ وہ یادیں جو کبھی ہنساتی تھیں اور کبھی اندر ہی اندر توڑ دیتی تھیں۔ آج وہ انہی یادوں کے بوجھ تلے ڈوبی بیٹھی تھی اور روئے جا رہی تھی۔ آنکھیں بوجھل، سر بھاری اور دل بھرا ہوا۔
سامنے رکھے قلم اور سفید صفحات اس کے خاموش آنسوؤں کے گواہ تھے۔ جیسے دونوں منتظر ہوں کہ کب وہ اپنا غم ان پر انڈیل دے۔ کب وہ لفظوں میں سسکیاں بھر کر ان کے سینے پر ایک نئی کہانی درج کرے۔
وہ دوبارہ آنکھوں کو رگڑتی ہے، درد کی پرواہ کیے بغیر قلم اٹھاتی ہے۔ صفحات کو الٹ پلٹ کر دیکھتی ہے اور سوچتی ہے: "کیا لکھوں؟” ابھی قلم نے صفحے کو چھوا ہی تھا کہ ایک آنسو ٹوٹ کر کاغذ پر گر گیا۔ اس ایک بوند میں شاید برسوں کا بوجھ تھا۔ صفحہ اور قلم دونوں خاموش کھڑے جیسے اس کی پہلی تحریر کے منتظر۔
تب صفحہ آہستہ سے قلم سے مخاطب ہوا:
صفحہ: یہ آخر چاہتی کیا ہے؟ نہ کبھی مکمل اپنے زخم لکھتی ہے، نہ ہی اشکوں کو لفظوں کا لباس دیتی ہے۔
قلم: تم کیا جانو… اس نے اپنے اندر کتنے طوفان دبا رکھے ہیں۔ تم تو بس ایک نئی، دکھ بھری داستان چاہتے ہو، تاکہ دنیا تک پہنچاؤ۔
صفحہ: نہیں! میں تو صرف اس کا درد جذب کرکے اسے تحریر میں ڈھالنا چاہتا ہوں، تاکہ لوگ جانیں کہ خاموش چہروں کے پیچھے کتنی کہانیاں ہوتی ہیں۔
قلم: مگر میں اس کا غم لکھنا نہیں چاہتا۔ مجھے ان مصنفوں پر ترس آتا ہے جو دوسروں کا درد بھی اپنا سمجھ کر لکھتے ہیں۔
صفحہ: اور اسی درد کی بدولت ہم رسالوں، کتابوں اور دلوں میں جگہ پاتے ہیں۔ مگر افسوس… ان دلوں کی حالت پر جو لفظوں میں غم تو بکھیر دیتے ہیں مگر اپنے زخم نہیں بھر پاتے۔
قلم: ہاں، ٹھیک کہہ رہے ہو… مگر ان کے بہتے آنسو مجھے بے چین کر دیتے ہیں۔ لیکن دیکھو—
گفتگو ابھی جاری تھی کہ وہ اچانک خاموشی سے قلم بند کرتی ہے، صفحہ پھاڑ کر کوڑے دان میں پھینکتی ہے اور بیگ بند کرکے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ شاید یہ کہانی بھی باقی سب یادوں کی طرح ادھوری رہ گئی…
— ثناء اسد
۲۹ دسمبر ۲۰۲۵ — پیر








