خورشید و ماہتاب و ستارہ عجیب ہے
یہ آسمان سارے کا سارا عجیب ہے
ہم لوگ اپنی قبر سے نکلیں گے ایک روز
صحرائے موت میں یہ اشارہ عجیب ہے
تم لوگ کشتیوں سے اتر آؤ اس طرف
ان پانیوں کے ساتھ کنارہ عجیب ہے
دہشت سے اپنے آپ میں مسمار ہو گئے
اس بار اُس نے ہم کو پکارا عجیب ہے
تحت الثری’ سے کھینچ لیا ہے دعاؤں نے
اس اعتبار کا بھی سہارا عجیب ہے
ہم لوگ اپنی قید میں صدیوں پڑے رہے
جو وقت ہم نے خود میں گزارا عجیب ہے
ہم سارے ساتھ ساتھ بھی تنہا ہیں کس قدر
تصویر میں یہ قید نظارہ عجیب ہے
مدت ہوئی ہے چھوڑے ہوئے شہرِ دل مجھے
خود میں پلٹ کے جانا دوبارہ عجیب ہے
سلیم فگار








