آپ کا سلاماردو غزلیاتسلیم فگارشعر و شاعری

خورشید و ماہتاب و ستارہ عجیب ہے

سلیم فگار کی ایک اردو غزل

خورشید و ماہتاب و ستارہ عجیب ہے
یہ آسمان سارے کا سارا عجیب ہے

ہم لوگ اپنی قبر سے نکلیں گے ایک روز
صحرائے موت میں یہ اشارہ عجیب ہے

تم لوگ کشتیوں سے اتر آؤ اس طرف
ان پانیوں کے ساتھ کنارہ عجیب ہے

دہشت سے اپنے آپ میں مسمار ہو گئے
اس بار اُس نے ہم کو پکارا عجیب ہے

تحت الثری’ سے کھینچ لیا ہے دعاؤں نے
اس اعتبار کا بھی سہارا عجیب ہے

ہم لوگ اپنی قید میں صدیوں پڑے رہے
جو وقت ہم نے خود میں گزارا عجیب ہے

ہم سارے ساتھ ساتھ بھی تنہا ہیں کس قدر
تصویر میں یہ قید نظارہ عجیب ہے

مدت ہوئی ہے چھوڑے ہوئے شہرِ دل مجھے
خود میں پلٹ کے جانا دوبارہ عجیب ہے

سلیم فگار

post bar salamurdu

سلیم فگار

السلام علیکم ! میرا پورا نام محمد سلیم ہے قلمی نام سلیم فگار ہے- تعلق جہلم سے ہے - میرے تین شعری مجموعے ہیں - ستارہ سی کوئی شام - سنِ اشاعت مارچ دو ہزار پندرہ- تغیر۔ سنِ اشاعت ستمبر دوہزار انیس- خواب کی اذیت میں۔ سنِ اشاعت جنوری دوہزار چھبیس-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button