- Advertisement -

ٍ بے عمل ٹرینر

محمد سرفراز اجمل کی تحریر

ٍ بے عمل ٹرینر

پنجاب یونیورسٹی کے قریب مولانا شوکت علی روڈ پر طلبہ و طالبات کا ہجوم جمع تھا۔طلبہ ایک دوسرے کو کراس کرتے ہوئے آگے جانے کی کوشش کررہے تھے۔ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ پہلے اگلی سیٹوں کی بکنگ کروا لے،رش اتنا تھا کہ پاوں رکھنے کی جگہ نہ تھی۔مہنگائی کے اس دور میں ہر ایک طالبعلم تین ہزار روپے پکڑے لائن میں لگے ہوئے تھے اور اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔دراصل ایک موٹیویشنل ٹرینر کا ایک پروگرام تھا جس کے پروگرام کا عنوان تھا,,اخلاقیات اور ہمارا معاشرہ،،اگلے ہفتے یہ پروگرام تھا اس لئے نوجوان ایڈوانس میں بکنگ کرارہے تھے تاکہ بعد میں پریشانی کا سبب نہ بنے۔
پروگرام جناح ہسپتال کے قریب ایک خوبصورت عالیشان گھر میں تھا،گھر بہت بڑا صاف ستھرا، کمرے،گراسی پلاٹ اور ایک صحن،باغ کی طرح خوبصورت پھول بھی تھے،گویا گھر محل کی عکاسی کررہا تھا۔ہفتہ کا دن تھا لوگ پروگرام کے لئے اس گھر کی طرف سے آرہے تھے۔اس گھر سے پہلے گلی کے قریب ایک یو ٹرن ہے جہاں پر چوک بھی ہے وہاں ایک ضعیف العمر خاتون چوک کے درمیان گھاس والی جگہ پر بیٹھی ہوتی تھی، تمام لوگ جو آنے جانے والے سیکروں لوگ اس کو دیکھ کر گزر جاتے تھے۔
کوئی شخص اس خاتون کی طرف دھیان بھی نہ دیتا تھا۔وہ خاتون بھیک مانگنے والی بھی نہیں تھی،یہ چوک اس کے لئے گھر تھا جہاں وہ روز بیٹھتی تھی،رات کو گھاس پر سو جاتی تھی اور دن کو چوک پر دیوار کے سائے میں بیٹھی رہتی تھی،پروگرام میں شرکت کرنے والے طلبہ و طالبات اسی راستے سے گزر کر جارہے تھے۔کسی ایک شخص کو احساس نہ ہوا کہ کسی کی ماں،بہن،بیٹی،معاشرے کی ایک بے سہارا ضعیف العمر خاتون یہاں بے سروسامانی کی حالت میں بیٹھی تھی اس سے حال احوال پوچھا جائے۔
تمام لوگ ٹرینر کے بتائے ہوئے ایڈریس پر پہنچ چکے تھے۔حال مکمل بھرا ہوا تھا۔تمام لوگ ٹرینر کے آنے کا انتظار کررہے تھے۔ہر کوئی اپنی سیٹ پر براجمان تھا۔کاغذ اور قلم سب کے ہاتھ میں تھا۔
اچانک ہال کے عقبی دروازے سے ایک دراز قد ٹرینر کی آمد ہوئی جسے دیکھ کر تمام لوگ کھڑے ہوگئے اور تالیوں کی گونج سنائی دینے لگی۔تمام لوگ بیٹھ گئے۔ٹرینر نے تمام لوگوں کو خوش آمدید کہا اور اپنے لیکچر کا آغاز کر دیا ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ لیکچر کے دوران ایک خاتون جو چوک پر بیٹھی تھی نمودار ہوئی اس کو دیکھتے ہی ٹرینر کے چہرے کا رنگ زرد پڑگیا۔
ٹرینر کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اس کے ملازم نے اس خاتون کو دھکے دے کر باہر نکال دیا۔سامعین اس عمل پر حیران ہوئے کہ یہ بزرگ خاتون یہاں کیوں آئی تھی۔ ٹرینر نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج کل معاشرے میں خون سفید ہوگئے ہیں۔لوگوں کو اپنے رشتوں کا احترام نہیں ہے۔معاشرے میں نفسا نفسی کا عالم ہے۔کوئی کسی کے دکھ درد میں شریک نہیں ہوتا۔مصیبت میں کوئی کام نہیں آتا۔ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔والدین کی خدمت نہیں کرتے اولاد کی صحیح تربیت نہیں کرتے ۔فحاشی اور بے حیائی کی روک تھا م نہیں کرتے۔
اپنی اولاد،اپنے طلبہ کو اخلاقیات نہیں سکھاتے بلکہ صرف کتابیں رٹواتے ہیں۔
لیکچر ختم ہوا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا،ہر ایک طالبعلم نوجوان اس کے ساتھ سیلفی لے کر خوشی کا اظہار کررہے تھے۔تمام طلبہ ہال سے نکل کر اس بڑ ھی خاتون کی طرف بڑھنے لگے۔ہر اک طالبعلم نے دل میں سوچ لیا تھا کہ پروگرام کے بعد اس خاتون کے پاس ضرور جائے گا۔یہ ایک اتفاق تھا کہ تمام طلبہ خاتون کے پاس جمع ہوگئے اور سارے طلبہ آتے ہی خاتون کے قریب بیٹھ گئے تاکہ اس کی کہانی سن سکیں اس کی داد رسی کی جائے حوصلہ افزائی کی جائے۔اچانک ایک لڑکی آگے بڑھی اور اس خاتون کو اٹھایا جو گھاس پر سورہی تھی اور سر پر دوپٹہ رکھے آنسو بہا رہی تھی۔لرکی نے اس کو اٹھایا،بٹھایا پانی پلایا اور سوال کرنے لگی۔
اماں جی!آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟آپ کا کوئی گھر،اولاد،رشتہ دار،جاننے وال کوئی نہیں ہے؟
لڑکی نے خاتون کو کندھوں کا سہارا دیتے ہوئے کہا۔
,,میری بیٹی!اس دنیا میں سب کچھ ہے،گھر بھی ہے،اولاد بھی ہے،رشتہدار بھی ہیں مگر دل مییں ان کے پاس میرے لئے جگہ نہیں ہے۔خاتون نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
اماں جی!آپ کھانا کہاں سے کھاتی ہیں؟لڑکی نے دوسرا سوال کیا
بیٹی!یہاں روز بیٹھتی ہوں عوام بھیک والی سمجھ کر پیسے رکھ دیتے ہیں،ان کو جمع کرکے کھانا لیکر کچھ کھا لیتی ہوں اور رب کا شکر ادا کرتی ہوں۔
اماں جی: یہ رقم رکھ لیں کھانے پینے کے کام آئے گی۔ایک نوجوان نے رقم آگے برھاتے ہوئے کہا
نہیں بیٹا مجھے اس عمر میں دولت کی ضرورت نہیں ہے۔بوڑھی خاتون نے رقم واپس کرتے ہوئے کہا
اماں جی کچھ دیر پہلے آپ ایک گھر میں،ہال میں تشریف لائیں تھی اگر آپ کو کھانا،رقم کی ضرورت نہیں تو وہاں کس مقصد کے لئے آئیں تھیں؟ایک اور لرکے نے سوال کیا جس پر سب بے چینی سے خاتون کا جواب سننے لگ گئے۔
یہ سن کر خاتون کی آنکھوں میں آنسو آگئے،بیٹا یہاں ہر روز بیٹھتی ہوں،ٹھنڈی ہوا،اور چھاوں ہوتی ہے مگر آج معمول سے زیادہ گرمی ہے اور ہوا بھی نہیں چل رہی،دھوپ تیز تھی،پسینہ آرہا تھا،دل گھبرا رہا تھا۔سوچا بیٹے کے گھر چلی جاتی ہوں اور کچھ دیر اے سی پر بیٹھ جاوں تاکہ گرمی کی شدت کم ہوجائے اور میرے بیٹے کے دل میں شائد رحم آگیا ہو،اماں جی نے مایوس کن لہجے میں جواب دیا
اماں جی یہ ٹرینر آپ کا بیٹا ہے؟لڑکی نے سوال کیا
ہاں میری بیٹی یہ میرا بیٹا ہے۔سامعین کے دل کو یہ سن کر بڑا جھٹکا لگا،اور حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگ گئے
سب کے سامنے اس ٹرینیر کی تقریر گھومنے لگی
اماں جی نے مزید بتایا کہ میرا بیٹا لندن سے ڈگری حاصل کرکے آیا ہے اور وہاں سے شادی کرکے آیا ہے۔یہاں میں اپنی بیٹی کے پاس رہتی تھی وہ ایک حادثہ میں دنیا سے رخصت ہوگئی پھر میں بیٹے کے گھر آئی تو اس کی بیوی نے مجھے گھر سے نکال دیا اور میرا بیٹا بھی کچھ نہ بول سکا۔اس دن سے دن رات یہاں گزار رہی ہوں اور زندگی کے بقیہ ایام بھی گزر جائیں گے۔
اماں جی آپ ہمارے گھر چلیں ہم آپ کی خدمت بھی کریں گے،گھر بھی دیں گے خیال بھی رکھیں گے۔
ایک لرکی نے آفر دیتے ہوئے کہا
نہیں میری بیٹی اللہ تجھے خوش رکھے،اللہ تجھے کامیاب کرے، مجھے بہت سے لوگوں نے کہا کہ تجھے اپنے گھر لے جائیں مگر میں اپنے بیٹے سے دور نہیں ہوناچاہتی، وہ ہر روز گھر سے نکلتا ہے تو اس کو دیکھتی ہوں تو مجھے سکون ملتا ہے کہ میرا بیٹا سلامت ہے۔خاتون کی بات سن کر سب طلبہ پر سکتہ طاری ہوگیا اورسب کی آنکھوں میں آنسوآگئے۔
سب طلبہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس کا کیا حل نکالا جائے؟سب طلبہ نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا
ہم سوشل میڈیا پر ,,عبرت ناک کہانیِ،، کے نام سے ایک مہم چلاتے ہیں۔ایک لڑکی نے رائے دیتے ہوئے کہا
ہاں یہ ٹھیک ہے۔تمام طلبہ نے متفق ہوکر کہا
تمام طلبہ نے اپنی بنائی ہوئی تصاویر (سیلفی)ہیش ٹیگ کے ساتھ عبرت ناک کہانی کی تفصیل سوشل میڈیا پر اپلوڈ کردی۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ مہم زور پکڑ گئی۔سوشل میڈیا سے اخبارات اور ٹی وی چینل پر چلی گئی۔
ٹرینر کی بیوی نے گھر کے کام سے فارغ ہو کر جب ٹی وی کا بٹن آن کیا تو خبر سن کر اس کے ہوش اڑ گئے فورا اس نے شوہر کے دفتر فون کیا کہ کیا تم نے خبر سنی ہے َ؟شوہر نے کہا۔نہیں کیا ہوا؟اس نے اس کو خبر سے آگاہ کیا۔دفتر کے ملازمیں یہ خبر پہلے ہی سن چکے تھے۔اور جیسے ہی ٹرینر اپنے دفتر سے باہر نکلا تو تمام ملازمین اس کے آفس کے باہر جمع تھے وہ یہ سب دیکھ کر حیران رہ گیا۔وہ ایک لمحہ کے لئے رکا پھر کچھ سوچ کر آنکھیں نیچے کرکے دفتر سے گھر کی طرف نکل آیا۔
اس سے پہلے میڈیا ٹرینر کی والدہ تک پہنچتا وہ اس کو کار میں بٹھا کر گھر لے آیا۔جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوا اور اس کی ماں کو اس کے ساتھ دیکھا تو غصہ سے سٹپٹا گئی اور بڑ بڑ کرتے ہوئے گھر سے سامان اٹھا کر چلی گئی۔
اس نے گھر میں ماں کو نہلایا، دھلایا، صاف کپڑے دئیے،کھانا کھلایا اور اے سی روم میں بیڈ پر لٹا دیا۔اور اپنی ماں سے معافی مانگنے لگ گیا کہ وہ شیطان کے بہکاوے میں آکر اور بیوی کا ساتھ دے کر نافرمان ہوگیا تھا۔اس نے توبہ کی اور آئیندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا۔
ماں نے اپنے بیٹے کو گلے لگا لیا دونوں کو دلی سکون نصیب ہوا۔ٹرینر بستر پر ٹھنڈی آہیں لے رہا تھا کہ اچانک دروازے پر بیل بجی وہ اٹھ کر گیا تو دیکھا سامنے میڈیا والے بریکنگ نیوز دینے کے انتظار میں تھے اور اس کی والدہ کو لائیو دکھانا چاہتے تھے۔اس سے پہلے کہ میڈیا اس کی والدہ کو ٹی وی سکرین پر دکھائے اس نے پریس کانفرنس شروع کر دی اور ناظرین کو پیغام دیا کہ میں نافرمان ہوگیا تھا میرے دل ودماغ سے والدین کا احترام نکل چکا تھا۔اللہ نے مجھے ہیرو سے زیرو بنا دیا،اللہ نے مجھے دنیا میں سزا دے دی۔خدارا آپ سے درخواست ہے کہ والدین کا احترام کریں۔ان کی خدمت کریں۔
اس نے سب کے سامنے معافی مانگی گھر کے اندر ڈاخل ہوگیا اور والدہ کی خدمت کرنے لگ گیا۔
محترم قارئین!
حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
,,تباہ وبرباد ہو،تباہ و برباد ہو،تباہ و برباد ہو ِ،، تین دفعہ فرمایا صحابہ نے پوچھا!کون؟اللہ کے رسولﷺ
آپ ﷺ نے فرمایا وہ شخص جو اپنی زندگی میں والدین کو پائے اور خدمت کرکے جنت حاصل نہ کر سکے۔(بخاری)

محمد سرفراز اجمل

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
محمد سرفراز اجمل کی تحریر